• صفحہ اول>>دنیا

    عالمی برادری کی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں اراضی کے اندراجی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی شدید مذمت

    (CRI)2026-02-18

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 16 فروری کو اپنے ترجمان کے ذریعے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے اس حالیہ فیصلے کی مذمت کی، جس کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں اراضی کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تمام اسرائیلی بستیاں اور متعلقہ نظام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ گوتریس نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کے ذریعے "دو ریاستی حل" کی تکمیل کریں۔

    اسی روز عرب لیگ نے بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل کے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے "غیر موثر یکطرفہ اقدام" قرار دے کر کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ عرب لیگ نے خبردار کیا کہ ان پالیسیوں کے تسلسل سے کشیدگی بڑھے گی، علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو گا اور مزید تشدد اور بدامنی پھیلے گی۔ عرب لیگ نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

    یاد رہے کہ 1993 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طے پانے والے اوسلو معاہدے کے مطابق، دریائے اردن کے مغربی کنارے کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، یعنی زون اے، زون بی اور زون سی۔ ان میں زون اے کا کنٹرول فلسطینیوں کے پاس ہے، زون بی فریقین کے مشترکہ انتظام میں ہے جبکہ زون سی پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ زون سی کا رقبہ مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے اور مغربی کنارے کا بیشتر حصہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے ، جس کے باعث فلسطینیوں کو محدود خود مختاری حاصل ہے ۔

    ویڈیوز

    زبان