امریکہ اور ایران کے درمیان 17 فروری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جوہری مسئلے پر مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق 16 تاریخ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ ایران مذاکرات میں "بالواسطہ" شرکت کریں گے، او اگر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تو ایران کو "نتائج" بھگتنا ہوں گے۔
سولہ فروری کو برطانیہ میں رائل ایئر فورس کی لیکن ہیتھ بیس سے18 ایف 35 اے لائٹننگ ٹو لڑاکا طیارے فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں کے گروپ کی مدد سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہو گئے۔ یہ حالیہ مہینوں میں ایف 35 لڑاکا طیاروں کی سب سے بڑی تعیناتیوں میں سے ایک ہے ، جبکہ اسی روز ایران کے پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں میں ملوث ہو اورامریکہ ایران کے "بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کے مسئلے" کو بھی حل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی حکومت نے ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانے کے لیے ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا، لیکن اس حوالے سے دو سرخ لکیریں موجود ہیں: پہلی، جوہری توانائی کے پرامن استعمال کا حق ناقابل تنسیخ ہے۔ اور دوسری یہ کہ میزائل صلاحیت پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔



