مقامی وقت کے مطابق 22 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں ایران کے خلاف ابتدائی حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنا ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ جن اہداف پر غور کر رہے ہیں، ان میں پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز، ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ ابتدائی "ہدفی" حملہ ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر مجبور نہ کر سکا تو ٹرمپ "اسی سال ایک اور موقع پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے امکان کو برقرار رکھیں گے"، جس کا مقصد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے 18 تاریخ کو وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایران پر حملے کے منصوبے پر غور کرنے کے لئے ایک میٹنگ بلائی، جس میں امریکی نائب صدر، سیکرٹری آف اسٹیٹ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر شامل تھے۔ اب تک، امریکہ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو ایران کے ارد گرد تعینات کر رکھا ہے، اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ 22 تاریخ کو اٹلی کے جنوب میں بحیرہ روم میں موجود تھا ،جو جلد اسرائیل کے قریب سمندری حدود میں پہنچ جائے گا۔



