21 فروری کو، پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ قرار دیا گیا ہے کہ یہ حملے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے کیے ، اور ان کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ان کی قیادت اور عناصر کی جانب سے کی گئی۔تحریکِ طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہوں کے علاوہ داعش خراسان نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پاکستانی حکام نے کہا کہ جوابی کارروائی کے طور پر پاک۔افغان سرحدی علاقے میں تحریکِ طالبان پاکستان، اس کے ذیلی گروہوں اور داعش خراسان کے سات ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے، اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔
دوسری جانب 22 فروری کو افغانستان کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر افغان حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور صوبہ ننگرہار اور پکتیکا کے متعدد شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ افغان وزارتِ دفاع نے اس اقدام کو افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ مناسب وقت پر اس کا مناسب اور سوچا سمجھا جواب دیا جائے گا۔



