مقامی وقت کے مطابق 21 فروری کو، پاکستان، قطر، سعودی عرب، اردن، بحرین، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، مصر، شام، کویت، لبنان، عمان اور فلسطین سمیت 14 ممالک نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل میں امریکی سفیرمائیک ہکابی کے حالیہ ریمارکس کی شدید مذمت کی گئی۔ مائیک ہکابی نے حالیہ دنوں دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین ان خطرناک اور اشتعال انگیز بیانات کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی اور مقبوضہ عرب سرزمین پر کوئی خودمختاری نہیں ہے۔ بیان میں شریک تمام فریقین دریائے اردن کے مغربی کنارے کو ضم کرنے یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع اور کسی بھی ریاست کو دھمکی دینے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ تمام فریقوں نے اشتعال انگیز بیان بازی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے حال ہی میں امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ "اگر اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔"



