جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائچی کی ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی ختم کرنے، اور "تین عدم جوہری اصولوں" میں ترمیم کرنے سمیت عسکری طاقت بڑھانے کی متعدد کوششوں کے حوالے سے ، جاپان کے مختلف شعبوں کے افراد نے 25 تاریخ کو ٹوکیو میں ایک اجلاس کے موقع پر اپنےخدشات کا اظہار کیا، اور کہا کہ متعلقہ فوجی اقدامات علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کو امن پسندی کے راستے پر چلنا چاہیے۔
جاپان کی منسٹری آف اکنامک اینڈ انڈسٹری کے سابق اہلکار گوگا شِگوآکی نے مزکورہ اجلاس میں اپیل کی کہ جاپان کو تاکائچی کے "عسکری طاقت والے راستے" سے "امن پسند جاپان کے راستے" کی طرف آنا چاہئیے۔
ٹوکیو یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے اجلاس کے دوران کہا کہ جاپان نے پہلے کہا تھا کہ وہ دوبارہ جارحیت کا راستہ نہیں اپنائے گا اور جنگ نہیں کرے گا، اور "تین عدم جوہری اصولوں" پر قائم رہے گا یعنی "جوہری ہتھیار نہ رکھنا، نہ بنانا اور نہ اپنی سرزمین پر لانا"، لیکن اب ان وعدوں سے انحراف ہو رہاہے جس سے بین الاقوامی برادری کا جاپان پر اعتماد کم ہوگا۔



