مقامی وقت کے مطابق 25 فروری کو امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ 26 فروری کو ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات کا تیسرا دور زیادہ تر ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوگا اور امید ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت "کارآمد" ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ملاقات کو کسی اور نوعیت کی بات چیت کے طور پر بیان نہیں کریں گے بلکہ یہ محض گفتگوکا ایک اور موقع ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 فروری کو کانگریس میں سالانہ تقریر کے دوران ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران "ایسے میزائل تیار کررہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں"۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 25 فروری کو امریکہ کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اس ماہ 6 اور 17 فروری کو عمان کے دارالحکومت مسقط اور سویٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں بالواسطہ دو مذاکراتی ادوار منعقد ہوئے ہیں ۔ اس دوران، امریکہ مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر اپنی فوجی قوت جمع کرتا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اعتراف کیا کہ وہ ایران پر "محدود فوجی کارروائی" کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ ایران کو تابع کیا جا سکے۔



