
26 فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)24 فروری کو ووہان شہر کے مرکز میں واقع حونگ شان آڈیٹوریم کے سامنے سے ایک بے آواز طیارے نے اڑان بھری ۔ چار مختلف الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اور لینڈنگ (eVTOL) گاڑیوں کی یہ نمائش حوبے کے صوبائی اجلاس کی ایک اہم "ہائی لائیٹ تھی ، اس اجلاس میں مقامی حکام نے اقتصادی ایجنڈا پیش کیا۔
حوبے نے جشن بہار کی تعطیلات کے فوراً بعد ،کام کے پہلے ہی دن ہی مقامی اختراعات کو پیش کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ چین کی کم بلندی پر پرواز کی معیشت، جو اب قومی حکمت عملی کا مرکز بھی ہے، تیزی سے تصور سے حقیقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس پرواز کی "ٹائمنگ" انتہائی اہم ہے، کیونکہ صنعی لیڈرز اور ریگولیٹرز 2026 کو eVTOL کی تجارتی کامیابی کے لیے ایک اہم سال سمجھتے ہیں، جہاں متعدد مینوفیکچررز ٹائپ سرٹیفیکیشن اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ وولانٹ ایروٹیک میں حکمت عملی کے نائب صدر ہوانگ شیاو فئے نے اپنے ایک حالیہ ایک انٹرویو میں کہا کہ 2026 کم بلندی پر پرواز والی صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ eVTOL کی ٹیکنالوجی اب تصوراتی تجربات سے تجارتی تیاری کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے اس کی ایک ٹریلین یوان کی مارکیٹ میں اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی ترجیح ،ووہان میں واضح تھی، جہاں ای-ہاک ٹیکنالوجی نے 1.2 ٹن کا eVTOL پیش کیا جس میں زمینی حفاظت بہتر بنانے کے لیے بند روٹرز شامل تھے۔
ای-ہاک ٹیکنالوجی کے چیئرمین ٹسائی شیاودونگ نے کہا کہ مستقبل میں 'فلائنگ ٹیکسی' بلانا اتنا ہی آسان ہوگا جتنا کہ رہائشی علاقوں یا پارکس میں رائیڈ ہیلنگ ایپ استعمال کرنا۔انہوں یہ بھی کہا کہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے لاجسٹکس اور سیاحت کے لیے دو نشستوں والا ماڈل اس سال متوقع ہے۔
، نمائش میں کم رینج کے حوالے سے خدشات کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک ہائبرڈ ٹِلٹ-روٹر V1000 بھی رکھا گیا تھا۔ اس کی رینج ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ ووہان سے بیجنگ یا گوانگ جو اور شنگھائی تک بغیر ری چارج کیے سفر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
وُوہان شونچی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے ڈپٹی چیف ڈیزائنر لی جیا نے بتایا کہ خالص برقی eVTOLs کی سب سے بڑی محدودیت ان کی رینج ہے، جسے ان کی کمپنی کے ہائبرڈ رینج-ایکسٹینڈر سسٹم نے ختم کر دیا ہے۔ یہ گاڑی 400 کلوگرام وزن لے جا سکتی ہے اور اسے چائنا کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے ٹائپ سرٹیفکیٹ کی منظوری بھی مل چکی ہے۔
وُوہان فوشینگ جنرل ایوی ایشن کمپنی لمیٹڈ نے ایک پروٹوٹائپ پیش کیا جسے وہ ایک فلائنگ 'مائیکرو آئی سی یو "کہتی ہے۔ روایتی ہیلی کاپٹرز سے ایمرجنسی ریسکیو کے لیے تقریبا 10,000 یوان فی گھنٹہ لاگت آتی ہے ان کے برعکس یہ خالص برقی گاڑی اس لاگت کو تقریباً 2,200 یوان تک کم کر سکتی ہے۔
ووہان میں خالص برقی eVTOLsکا یہ مظاہرہ ، وسیع قومی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی سے نافذ العمل نئے ترمیم شدہ سول ایوی ایشن لا فضاء کے 300 میٹر نیچے والے علاقے کے انتظامی قواعد کی وضاحت کریں گے اور eVTOLs کے لیے ایک ضابطہ کار تشکیل دیں گے۔ مرکزی حکومت کے پانچ محکموں بشمول وزارت صنعت و اطلاعات نے اس ماہ مشترکہ ہدایات جاری کیں جس میں 2027 تک کم بلندی والے عوامی فضائی راستوں کا کم از کم 90 فیصد احاطہ زمینی موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے ذریعے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
حوبے اب مقابلے کی اس دوڑ میں سبقت لے جانے کے لیے کمر کس چکاہے۔ مقامی حکام کے مطابق، صوبہ اس وقت نو eVTOL ماڈلز تیار کر رہا ہے جن میں سے چار کی آزمائشی پروازیں مکمل ہو چکی ہیں۔ ووہان میں کم بلندی پر پرواز والی اہم مینوفیکچرنگ کمپنیز کی آمدنی اس سال 30 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جو اس شہر میں 2025 میں ایوی ایشن انڈسٹری کی پیداوار، 9.6 بلین یوان پر مبنی ہے۔



