• صفحہ اول>>تبصرہ

    چین کا جشنِ بہار ، وہ آئینہ  جس میں قدیم اور جدید چین  ایک ساتھ دیکھا جاسکتا ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-26

    تحریر : سارا افضل

    جشن کسی بھی قوم کی روایات ،اس کی ثقافت اور تاریخ کی ہی عکاسی نہیں کرتے بلکہ یہ مجموعی طور پر ایک قوم کے مزاج اور اس کی فکر کے بھی عکاس ہوتے ہیں ۔ویسے تو اگر آپ چین کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو کسی بھی وقت کسی بھی موسم میں چین کے کسی بھی علاقے میں آ سکتے ہیں ، چین اور چینی عوام کھلے دل سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ چین کی تاریخ ، اس کی روایات ، ثقافت اور آج کے دور کی ترقی سہولیات اور سپر شاپنگ ، سب سے بیک وقت لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو پھر بہترین وقت ہے کہ آپ جشنِ بہار کے موقعے پر چین آئیں۔

    جی ہاں! مجھے معلوم ہے کئی لوگ کہیں گے کہ یہ میں کیا مشورہ دے رہی ہوں ، یہ تو " پیک رش سیزن " ہوتا ہے ،ہجوم بھی بہت اور سب کچھ مہنگا بھی بہت، لیکن سچ مانیں میں غلط نہیں کہہ رہی ہوں ، آپ " پیک سیزن سے پہلے بکنگ کروائیں تو مہنگائی کی فکر نہیں ہوگی اور "ہجوم " تو بھئی یہی تو اصل رونق ہے ۔

    2026 چانگ آن لالٹین میلے میں "شاہراہِ ریشم  کی شان" کے موضوع پر لالٹینوں کی آرائش۔ ( پیپلز ڈیلی آن لائن/ وے شِن)

    2026 چانگ آن لالٹین میلے میں "شاہراہِ ریشم کی شان" کے موضوع پر لالٹینوں کی آرائش۔ ( پیپلز ڈیلی آن لائن/ وے شِن)

     چین کے بڑے شہر وں سمیت چین کے تمام چھوٹے بڑے علاقے میلوں ٹھیلوں ، روایتی تھیٹر اور لوک پرفارمنسز سے بھرپٌور ہوتے ہیں، رات کے سائے پھیلتے ہیں تو فضا لالٹینوں کی شاندار اور غیر معمولی آرائش سے چمکتی ہے جو قدیم شہر کے ساتھ جدید ترین علاقوں میں بھی چینی روایات کا ایک جگمگاتا منظر ہوتا ہے اور اب تو چند سالوں سے " ڈرونز شو" کا ایسا سماں بندھتا ہے کہ لوگ آتش بازی کو بھول کر آسمان کے سٹیج پر ڈرونز سے چینی آرٹ کودیکھتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔

    گلیوں بازاروں میں جگہ جگہ ہان لباس  میں ملبوس سیاح ،سیر و تفریح کرتے نظر آتے ہیں۔(فائل فوٹو)( پیپلز ڈیلی آن لائن/ وانگ پھے)

    گلیوں بازاروں میں جگہ جگہ ہان لباس میں ملبوس سیاح ،سیر و تفریح کرتے نظر آتے ہیں۔(فائل فوٹو)( پیپلز ڈیلی آن لائن/ وانگ پھے)

    اس مرتبہ نو دن کی ان طویل تعطیلات میں ، جب جب بھی میں باہر گئی میں نے اس جشن کو صرف ایک جشن نہیں محسوس کیا مجھے لگا کہ یہ وہ آئینہ ہے جس میں قدیم اور جدید چین کا ایک ایسا کمال امتزاج نظر آتا ہے جسے ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ روایتی شاہی ملبوسات میں لوگ صرف تھیٹر کے کے سٹیج پر ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف مقامات پر نظر آئے اور یہ کوئی اداکار نہیں تھے نہ ہی کوی معمر لوگ جنہیں آج کا فیشن پسند نہیں تھا ، یہ چین زی کے نوجوان تھے جو ان شاہانہ اور شاہی تقریبات کے اس مخصوص تاریخی لباس کو اس کی تمام تر شان کے ساتھ زیب تن کیے جدید ترین مالز میں ویڈیو گیمز بھی کھیل رہے تھے اور سکیٹنگ بھی کر رہے تھے ۔ دلچسپ بات تو یہ کہ اس مرتبہ مختلف تفریحی مقامات پر پرفارمز ،"روبوٹ" بھی تھے جو کہیں کنگ فو، کہیں اوپرا کے کردار اور کہیں رقاص تھے ۔ اس قدر دلچسپ مناظر تھے، 2026 کے جدید چین کا اے آئی چہرہ ، قدیم چینی ملبوسات سجائے چین کے ماضی اور حال کی عکاسی کر رہا تھا۔

    چین کے ہر علاقے سے لوگ بڑے شہروں کی طرف آتے ہیں تو ظاہر ہے خوب بھیڑ بھاڑ بھی ہوتی ہے لیکن جناب سلیوٹ ہے انتظامیہ کو کہ لوگوں کے سمندر میں کسی کے کھو جانے یا کسی کی کوئی چیز چوری ہونے کے واقعات شاذ ہی سننے میں آئے ، کوئی چیز کھو بھی گئی تو کچھ ہی دیر بعد نگرانی پر موجود عملے کی مدد سے مل بھی گئی ۔

     16 فروری کو سیاح بیجنگ کے ٹیمپل آف ہیون کی سیر کرتے ہوئے۔ (تصویربشکریہ پیپلز ڈیلی آن لائن اردو کی قاری وردہ شاکر)

    16 فروری کو سیاح بیجنگ کے ٹیمپل آف ہیون کی سیر کرتے ہوئے۔ (تصویربشکریہ پیپلز ڈیلی آن لائن اردو کی قاری وردہ شاکر)

     بیجنگ کے فاربڈن سٹی کی جانب اگر آپ چلے جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید چین کے تمام لوگ اسی علاقے میں ہیں ۔ یہ تمام علاقہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے شہر ممنوعہ کے قریب موجود ، چھیان مین سٹریٹ ایک ثقافتی سٹیج کامنظر پیش کرتی ہے اور اس قدر ہجوم کہ آپ چلتے نہیں رینگتے ہیں ،لیکن اس قوم کا صبر ، نظم و ضبط اور ایک دوسرے کا احترام اگر آپ نے دیکھنا ہو تو یہاں دیکھیے ۔ کئی کلومیٹر طویل قطار میں حقیقتاً 4،4 گھنٹے کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کریں گے مجال ہے کوئی تو تکرار ہوجائے اور اس انتظار کے دوران آپ ان کے مزاج کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں ۔ صبر ، تحمل ، نظم و ضبط تو ہے ہی " زندگی کو انجوائے کرو"، اس کے مناظر بھی تھکا دینے والی ان قطاروں میں نظر آتے ہیں۔ تصاویر کھینچنا ، لائیو سٹریمنگ کرنا تو ہر جگہ ہی نظر آتا ہے لیکن فولڈنگ کرسیاں سٹول ساتھ ہوتے ہیں ، موسیقی کا بھی اہتمام ہوتا ہے ، گپ شپ کے ساتھ رسی پھلانگنا، تائی چی کی مشق ایک معمول کی طرح کرتے ، ننھے بچوں کے ساتھ کھیلتے اور کمر پر لادے بیگز میں سے کہانیوں کی کتابیں نکال کر انتظار کی اس مدت میں بچوں کو کہانیاں سناتے یہ لوگ بتاتے ہیں کہ وقت کا ، ایک ایک لمحے کا درست استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔

    شہروں کے اندر خصوصی ٹرینز اور بسز ادھر سے ادھر دوڑتی نظر آتی ہیں ، کھانے پینے کے لی سڑک کے کنارے ایک ڈھابے سے لے کر بڑے ہوٹلز تک لوگوں کی آوازوں اور قہقہوں سے گونجتے ہیں ، لوگ خوشی مناتے ہیں ، خوشی بانٹتے ہیں۔ لوگ خرچ کرتے ہیں، کاروبار کرنے والے سال کے اس سیزن کو " بہترین سیزن" قرار دیتے ہیں، آمدورفت بڑھتی ہے چھوٹے سے چھوٹا ٹھیلے والا بھی روزانہ پیٹ اور جیب بھر کر اٹھتا ہے اسی کا نام تو " جشن " ہے جہاں سب خوشی مناتے ہیں اپنے اپنے حصے کی خوشی سب کے ساتھ ساجھتے ہیں ۔اسی لیے تو میں نے کہا کہ چین کا ہر رنگ ، ہر روپ ایک ہی دورے کے دوران دیکھنا ہے تو پھر " چین آئیے، جشنِ بہار کے دوران" تاکہ آپ جان سکیں کہ جشن کی اصل روح کیا ہوتی ہے اور زندہ دل قومیں جشن کیسے مناتی ہیں ۔

    ویڈیوز

    زبان