مقامی وقت کے مطابق 30 مئی کو امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے سے متعلق مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کی شقوں میں بڑی حد تک ترمیم کرتے ہوئے انہیں سخت کر دیا ہے۔ ترمیم شدہ مسودہ زیادہ سخت ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر مذاکراتی عمل کو تیز کرنا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 30 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پروگرام میں کہا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو وہ "وار ڈپارٹمنٹ" کو مداخلت کا حکم دیں گے۔
مقامی وقت کے مطابق 31 مئی کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایرانی عوام کے قانونی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کیے بغیر ایران کسی معاہدے کی منظوری نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ، ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران امریکہ کے سامنے پیچھے ہٹنے یا سمجھوتہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور وہ ہرگز خود کو کمزور مقام پر نہیں رکھے گا۔



