یوکرین کے صدر زیلینسکی نے 4 جون کو روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو کھلے خط میں تجویز دی تھی کہ کسی تیسرے ملک میں رو برو ملاقات کر کے جنگ ختم کی جائے۔ زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کے لیے تیار ہے اور دونوں جانب سے قیدیوں کا مکمل تبادلہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک اچھا آغاز ہو سکتا ہے ، تاہم اگر پوٹن سمجھتے ہیں کہ یہ وقت جنگ ختم کرنے کا نہیں ہے ، تو یوکرین اپنی بقا کے لیے جنگ جاری رکھے گا۔
دوسری جانب روسی صدر پوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس یوکرین کے ساتھ الاسکا میں امریکہ اور روس کے صدور کے درمیان ملاقات کے نتائج کی بنیاد پر پرامن طریقے سے معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یوکرین بھی اسی طرح کے لچکدار رویے کا مظاہرہ کرے ۔روسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریق سمجھوتے کے لیے تیار ہوں تو تنازع کا پر امن حل ممکن ہے ۔



