مقامی وقت کے مطابق 18 ستمبر کو، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ ڈنمارک اور اس کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے، جس کے تحت اسے گرین لینڈ کی سلامتی اور دیگر تمام متعلقہ معاملات پر "مستقل کنٹرول" حاصل ہو جائے گا، اور اس کے لیے امریکہ کو کوئی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک غیر محدود مدت کا معاہدہ ہے جو یہ یقینی بنائے گا کہ امریکہ کو گرین لینڈ میں ضروری اقدامات کرنے اور گرین لینڈ اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کا مکمل اختیار ہمیشہ کے لیے حاصل رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی تحریری اجازت کے بغیر، امریکہ کے دشمن گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم نہیں کر سکیں گے، فوجی موجودگی نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ہی کوئی حساس سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ گرین لینڈ کے موزوں علاقوں میں بڑی فوجی موجودگی قائم کرے گا، اور وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر متعلقہ ترقیاتی اور تعمیراتی کام بھی کرے گا۔
مقامی وقت کے مطابق 18 ستمبر کو، ڈنمارک کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کو توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے خطے کی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔



