27جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں، بیجنگ کی کمرشل سپیس کمپنی انٹر سٹیلر نے ذیلی مدار میں مسافر پروازوں کا آغاز کرنے کے منصوبوں سے بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ پروازیں 2028 تک شروع کی جائیں گی جن کا ٹکٹ 3 ملین یوان (تقریباً 429,534 امریکی ڈالر) کا ہوگا۔
چین کی کئی کمرشل سپیس کمپنیز جیسے کہ گلیکٹک انرجی اور ڈیپ بلو ایرو سپیس نے اس سال کے لیے اپنی تیار کردہ لانچ وہیکلز کی پہلی پروازیں شیڈول کی ہیں، جن میں سے بہت سی زیادہ طاقتور اور دوبارہ قابلِ استعمال وہیکلز پر مشتمل ہیں۔صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی کمرشل سپیس کمپنیز کے لیے بڑے پیمانے پر منافع بخش، مارکیٹ ا یپلیکیشنز کی تلاش اپنے کاروبار کو بڑھانے اور پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔
چین کی خلائی صنعت پہلے ریاستی حمایت یافتہ پروگرامز کے زیر اثر تھی، 2015 میں اسے نجی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا گیا، جس کے بعد متعدد کمرشل راکٹ اور سیٹلائٹ سٹارٹ اپس قائم ہوئے۔2024 میں حکومت کی ورک رپورٹ میں کمرشل سپیس انڈسٹری کو " اقتصادی ترقی کا نیا انجن" قرار دیا گیا اور صوبائی سطح کے 20 سے زیادہ علاقوں نے معاون پالیسیز متعارف کروائی گئی ہیں۔ بیجنگ کی صرف ایک ، یی جوانگ ڈسٹرکٹ کی "راکٹ سٹریٹ" ہی میں چین کی 75 فیصد سے زیادہ کمرشل راکٹ کمپنیز ہیں۔
ایک حالیہ صنعتی رپورٹ کے مطابق۔چین میں اس وقت 600 سے زائد کمرشل سپیس کمپنیز ہیں، جن کی سالانہ مالی معاونت 2025 میں 18.6 بلین یوان تک پہنچ گئی، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے اور راکٹ بنانے والی کم از کم پانچ نجی کمپنیز آئی پی او کا ارادہ رکھتی ہیں۔چائنا نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن کے مطابق ، 2025میں کمرشل لانچز ،ملک کے کل سپیس لانچز کا 54 فیصد تھیں، جس میں 311 کمرشل سیٹلائٹ مدار میں پہنچیں، جو اس سال لانچ کیے گئے تمام سیٹلائٹس کا 84 فیصد ہے۔
مستقبل میں صنعت کی ترقی طویل اور زیادہ پیچیدہ ویلیو چینز کی طرف بڑھ رہی ہے۔سیٹلائٹ کی تیاری بڑے پیمانے پر پیداوار کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ بیجنگ میں واقع سیٹلائٹ ساز کمپنی گلیکسی سپیس کی سمارٹ فیکٹری ،ڈویلپمنٹ دورانیے کو 80 فیصد تک کم کر سکتی ہے اور سالانہ 1,000 کلوگرام وزنی سینکڑوں سیٹلائٹس تیار کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ ،اورین سپیس جیسی کمپنیز اعلیٰ صلاحیت اور کم لاگت کے حل تلاش کر رہی ہیں۔ اس کا "گریویٹی-1" راکٹ ہر مشن میں 30 سیٹلائٹس لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہےتاکہ سیٹلائٹس تعیناتی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
راکٹ لانچ اور سیٹلائٹ کی تیاری کے علاوہ، نئے کاروباری ماڈل بھی ابھر رہے ہیں، جن میں مدار میں خدمات جیسے کہ خلا میں سفر اور کان کنی بھی شامل ہیں ۔انٹر سٹیلر کے سیاحت کے منصوبے سے پہلے، 12 جنوری کو کمرشل کمپنی سی ای ایس سپیس کے خلا میں سفر کے لیے تیار کردہ سپیس کرافٹ نے ذیلی مدار میں پرواز کا تجربہ بھی مکمل کیا ہے۔
نیشنل ایسٹرانومیکل آبزرویٹریز کی محقق لیو جنگ کی رائے میں، سیٹلائیٹس میں اضافے سے نئی ضروریات پیدا ہو رہی ہیں، جیسے سپیس ٹریفک مینجمنٹ اور ملبے کی مینجمنٹ، جس سے نگرانی اور صفائی کی ٹیکنالوجیز میں تجارتی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ممکنہ ایپلیکیشنز عام لوگوں کی زندگی میں سہولت کے لیے بھی قابل عمل ہیں ، جیسے سیٹلائیٹ کی مدد سے درست زرعی عمل، مائیکرو گریویٹی میں دوا سازی پر تحقیق، اور ہیلتھ کیئر کے لیے قابل اعتماد ریموٹ کمیونیکیشن۔
شنگھائی کی روبوٹکس کمپنی ایگی بوٹ کے چیف مارکیٹنگ آفیسر چیو ہنگ انٹر سٹیلر کے مستقبل کی خلا ئی پرواز کے اولین خریداروں میں شامل ہیں اور چینی میڈیا میں انہیں ملک کا پہلا کمرشل سپیس ٹورسٹ کہا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسافروں کی فہرست میں شینزن کی جونگ چنگ روبوٹ ٹیکنالوجی کمپنی کا ایک ہیومینائیڈ روبوٹ بھی شامل ہے۔ ہیومینائیڈ روبوٹکس اور کمرشل سپیس کا انضمام مستقبل کے لیے ایک نئی راہ ہموار کر سکتا ہے۔



