2فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)دھاگوں یا بانس سے بنی گئی اشیا دنیا بھر میں عام ہیں لیکن دھات سے اسی طرز پر قابل استعمال اشیا بننا ، ایک نایاب فن ہے۔
چین کے صوبے یوننان کے دالی بائی خود اختیار پریفیکچر کی کاونٹی حہ چنگ میں، چاندی کے مقامی کاریگر اس نایاب روایتی دستکاری کی حدود کو وسیع کر رہے ہیں۔
بانس کی بنائی سے متاثر مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ ماہر کاریگر ، چاندی اور تانبے کو باریک دھاگوں میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر ان دھاتی دھاگوں سے چائے کے برتن، چٹائیاں، یا چاندی کے سامان پر خوبصورت آرائشی نمونے بنے جاتے ہیں۔
"چاندی کے ظروف کا گھر" کے طور پر مشہور حہ چنگ کاؤنٹی ، چاندی کے ظروف پر مشتمل ایک مکمل صنعت کی حامل ہے جس کی سالانہ پیداواری مالیت 5 ارب یوان (716.99 ملین ڈالر) سے زیادہ ہے۔اس کاونٹی کے 9 ٹاون شپس میں تقریباً 18,000 لوگ چاندی اور تانبے کے سامان کی پروسیسنگ اور فروخت سے منسلک ہیں۔



