• صفحہ اول>>کاروبار

    ڈی جے آئی نے امریکا کی  درآمدی پابندی کو چیلنج کر دیا

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-26

    نومبر 2025 ٹورنٹو، کینیڈا . پروفیوژن ایکسپو 2025 کے دوران لوگ DJI بوتھ میں نئی مصنوعات دیکھ رہے ہیں۔( تصویر/شین ہوا)

    نومبر 2025 ٹورنٹو، کینیڈا . پروفیوژن ایکسپو 2025 کے دوران لوگ DJI بوتھ میں نئی مصنوعات دیکھ رہے ہیں۔( تصویر/شینہوا)

    26فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی ڈرون بنانے والی کمپنی DJI، دنیا میں سِول ڈرون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے ۔ بدھ کے روز کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اس نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کے، ڈی جے آئی کے تمام نئے ماڈلز اور اہم اجزاء کی درآمدات کو روکنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کی ہے ۔

    جمعے کو امریکہ کی نویں سرکٹ کی اپیل کورٹ میں دائر کی گئی او اس میں ایف سی سی کے دسمبر میں جاری کیے گئے اس حکم کو چیلنج کیا گیاہےجس کے تحت DJI کو اس نام نہاد ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا ، جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے آلات کی فروخت اور اجازت کو محدود کرتی ہے۔اپنی درخواست میں، DJI نے کہا کہ ایف سی سی کا فیصلہ طریقہ کار کے لحاظ سے غلط اور مواد کے لحاظ سے ناقص ہے اور ریگولیٹر نے بغیر کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کیے بغیر یہ فیصلہ دیا ہے۔کمپنی نے جو بیان دیا ہے اس کے مطابق ، یہ بنا سوچے سمجھے DJI کی فعالیتوں کو امریکا میں محدود کرتا ہے اور امریکی صارفین کو اس کمپنی کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکتا ہے۔

    دنیا بھر کی سول ڈرون مارکیٹ میں ، DJI کے حصص 70 فیصد سے زیادہ ہیں ۔ کمپنی کاکہنا ہے کہ امریکا میں صارفین، تجارتی، اور حکومتی ڈرون شعبوں میں اس کا حصہ 70 سے 90 فیصد کے درمیان ہے۔ امریکا میں 1,800 سے زائد ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے مقامی ادارے جو ڈرون استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ DJI کی مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں۔

    ایریزونا کے ڈرون آپریٹرز گروپ کے شریک بانی گریگ ریورڈیو نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ صارفین DJI کی مصنوعات کو ان کے چینی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ رسائی میں آسان، سستی اور مؤثر ہیں ۔ ڈرون کے علاوہ، DJI نے امیجنگ ڈیوائسز میں بھی توسیع کی ہے 2025 تک Q3 نےعالمی ایکشن کیمرا مارکیٹ میں 66 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرتے ہوئے امریکی حریف GoPro کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پانورامک کیمرا کے شعبے میں، نئی مصنوعات نے اپنی ریلیز کے ایک سال کے اندر عالمی مارکیٹ کا 43 فیصد شیئر حاصل کیا۔

    ایف سی سی کی یہ کارروائی واشنگٹن میں چینی کمپنیز کو درپیش واحد قانونی چیلنج نہیں ہے۔ امریکہ نے بظاہر قومی سلامتی کو بنیاد بنا کرکئی چینی کمپنیز کو بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔ رین من یونیورسٹی آف چائنا کے چھونگ یانگ انسٹی ٹیوٹ فار فنانشل سٹڈیز کے سینئر محقق لیو یِنگ کہتے ہیں کہ چین پر دباؤ کا نتیجہ چینی کمپنیز اور صنعتوں کی طرف سے جامع جوابی اقدامات کا آغاز ہوگا، جو قانونی سے لے کر تجارتی قواعد پر مبنی ردعمل پر مشتمل ہوگا۔

    عالمی تجارتی تنظیم کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ایسے مقدمات جن میں امریکہ مدعا علیہ رہا ہے ان کی تعداد یورپی یونین کی تقریباً تمام معیشتوں سے زیادہ ہے اور زیادہ تر مقدمات میں امریکا ہارا ہے۔ لیو کی رائے میں دوسروں کو دبانا اپنی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ دوسرے ممالک سے دوری پیدا کرنے، سپلائی چینز کو توڑنے یا 'خطرے سے بچنے' کی امریکی کوششیں آخر کار ناکام ہوں گی اور امریکہ کنارے پر رہ جائے گا۔

    ویڈیوز

    زبان