
تھائی ٹسانگ روتھن برگ سٹریٹ کی طرز کا علاقہ ۔(تصویر: تھائی ٹسانگ ریلیز)
26 فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)دریائے یانگسی کے جنوبی کنارے پر واقع ایک چھوٹا سا شہر تھائی ٹسانگ جس کی مستقل رہائشی آبادی ایک ملین سے بھی کم ہے، چین میں جرمن کمپنیز کا " ہوم ٹاون" کہلاتا ہے۔ تھائی ٹسانگ نے 1993 میں پہلی جرمن کمپنی کرن-لائیبرز کے یہاں آباد ہونے کے بعد سے اب تک جرمن سرمایہ کاری والی 560 سے زائد کمپنیز کو یہاں جمع کیا ہےاور کل سرمایہ کاری چھ ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ صنعتی پیداوار کی سالانہ مالیت 67 ارب یوان (تقریباً 9.76 ارب امریکی ڈالر) سے زیادہ ہے۔
پہلی 100 جرمن کمپنیز کو تھائی ٹسانگ آنے میں 14 سال لگے، لیکن 400 سے 500 تک پہنچنے میں صرف دو سال لگے۔ یہ تیز رفتار ترقی مقامی حکومت کی مسلسل رہنمائی اور بااختیار بنانے کا نتیجہ ہے۔

بیومر گروپ-تھائی ٹسانگ میں قائم 500ویں جرمن ادارے کے اندر چینی اور جرمن ملازمین شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے باہمی تعاون کی عمدہ مثال پیش کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/ ما شیاوبو)
جرمنی میں " تھائی ٹسانگ ڈے" تقریبات منعقد کر کے اور جرمن فنڈڈ کمپنیز کے لیے گرین چینل فراہم کر کے تھائی ٹسانگ ،جرمن اداروں کو سرمایہ کاری اور پیداوار بڑھانے کی جانب مائل کر رہا ہے۔ چین کا پہلا چینی-جرمن ڈوئل سسٹم ووکیشنل ایجوکیشن انڈسٹریل پارک تھائی ٹسانگ میں ہی تعمیر کیا گیا ہے جس میں دس ہزار سے زائد پروفیشنلز تیار کیے ہیں۔
صنعتی تعاون کے علاوہ، تھائی ٹسانگ میں چین اور جرمنی کے درمیان عوامی تبادلے بھی دن بہ دن قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں متعدد مقامات پر جرمن طرز زندگی کے مناظر نظر آتے ہیںاور یہاں رینے والے جرمن افراد گھر کے احساس سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔

تھائی ٹسانگ شہر کا غیر ملکی افراد کے لیے سروس سینٹر، جس میں غیر ملکی امور سے متعلق 73 خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/ ما شیاوبو)



