ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایران اور امریکہ عمان کے مقامی وقت کے مطابق 6 فروری کی صبح تقریباً 10 بجے عمان کے دارالحکومت میں جوہری مذاکرات کریں گے۔ اس دوران ایرانی وزیر خارجہ امریکی صدارتی ایلچی وٹکوف کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کریں گے۔ تاحال فریقین کے درمیان ب
روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں سہ فریقی مذاکرات کا دو روزہ دور 5 تاریخ کو اختتام پذیر ہوا۔ تاہم، علاقے اور جنگ بندی جیسے بنیادی مسائل پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، اور نہ ہی متعلقہ سیاسی اور سلامتی امور پر کوئی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔
مقامی وقت کے مطابق 5 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ روس کے ساتھ نئے اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے کو "توسیع" نہیں دی جانی چاہیے، بلکہ اس کی جگہ امریکی جوہری ماہرین کو ایک "نیا، بہتر اور جدید معاہدہ" تیار کرنا چاہیئے۔
مقامی وقت کے مطابق 3 فروری کو، امریکی ریاست اوریگون کی وفاقی ضلعی عدالت کے جج مائیکل ایچ سائمن نےامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور اس کے ماتحت ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف دائر درخواست پر عارضی پابندی کا حکم جاری کر دیا، جس میں انہیں مظاہرین اور صحافیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں
مقامی وقت کے مطابق 3 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں حکومتی فنڈنگ بل پر دستخط کے موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ اس ہفتے مذاکرات جاری ہیں اور ایرانی فریق کارروائی کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کہاں ہوں گے، مگر "ایران کے ساتھ ایک سے
روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر 2 فروری کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اور امریکہ مختلف شکلوں اورتمام سطحوں پر بات چیت اور مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن روس امریکہ تعلقات کو معمول پر لانا آسان عمل نہیں ہے۔ لاوروف نے کہا کہ روس نئی امریکی انتظامیہ کی
مقامی وقت کے مطابق 2 فروری کو امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ انہوں نے اس صبح بھارتی وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریق امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت امریکہ کی طرف سے بھارت کے سامان پر عائد نام نہاد "مساوی ٹیرف" کو 25
بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط ریمارکس اور متعلقہ کارروائیاں دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ اور عالمی امن کے لیے اہم چیلنج ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق یکم فروری کو، ایک سینئر امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد چینلز کے ذریعے ایران کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ امریکہ معاہدے پر بات چیت کے لیے ایک میٹنگ منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ، مصر اور قطر انقرہ میں امریکی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹ
حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں جاپانی ماہر قانون ماساہیکو گوٹو نے کہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات اور طرزِ عمل جاپان میں قانون کی حکمرانی کی سرخ لکیر کو عبور کر چکے ہیں، اور تاکائیچی کو چاہیے کہ وہ متعلقہ بیانات فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے کہا
مقامی وقت کے مطابق 29 جنوری کو ، روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ روسی افواج نے گزشتہ روز یوکرینی افواج پر متعدد اطراف سے حملے جاری رکھے۔ روسی ٹیکٹیکل ایوی ایشن، ڈرون حملے، میزائل فورسز، اور توپ خانے نے 153 علاقوں میں یوکرینی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں یوکرین کے فوجی صنعتی ادارے، ریڈار اسٹیشن، گولہ
مقامی وقت کے مطابق 29 جنوری کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی بحریہ کا ڈسٹرائر "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" گزشتہ 48 گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ پہنچا ہے۔ تاحال امریکہ مشرق وسطیٰ میں کم از کم دس جنگی بحری جہاز تعینات کر چکا ہے، جن میں چھ ڈسٹرائر، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین دیگر ساحلی جنگی جہاز شامل ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق 29 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈی سینٹر میں میڈیا کو بتایا کہ وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ایران کے ساتھ بات چیت کا ارادہ کر رہے ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق 28 جنوری کو اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر ایک اعلیٰ سطحی بحث سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملات کا فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ چین قومی استحکام کو برقرار رکھنے میں ایران کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا
مقامی وقت کے مطابق اٹھائیس جنوری کو، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یوکرین کے مسلے پر امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت جاری ہے، لیکن یوکرین کی سرزمین کے معاملے پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ مسئلہ موجودہ مذاکرات میں چند اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔"
امریکہ کی جانب سے 28 جنوری کو دی گئی معلومات کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ "ایران پر نیا بڑا حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں" ۔
مقامی وقت کے مطابق 27 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ایک اور بحری بیڑہ ایران کی طرف جا رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچے گا ۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے 27 جنوری کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے والی امریکی پالیسیوں پر اپنے تنقیدی ریمارکس کو "واپس نہیں لیا"۔
مقامی وقت کے مطابق 26 جنوری کو ایک تازہ سروے کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر لوگوں کی حمایت کی شرح ٹرمپ کی صدارتی مدت میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سروے میں بیشتر جواب دہندگان نے مانا کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن کے نفاذ میں "بہت آگے نکل گئی ہے"۔
مقامی وقت کے مطابق 26 جنوری کو،امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ "ابراہم لنکن" کیریئر اسٹرائیک گروپ کو "مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جارہا ہے"۔ اسرائیل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملے سے بچاؤ کے لیے، امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید "پیٹریاٹ" ایئر ڈیفنس اور اینٹی میزائل سسٹم اور