مقامی وقت کے مطابق 6 جنوری کو، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرش میرس، اٹلی کی وزیر اعظم جیار جیا میلونی، پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک، ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز ، برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر اور ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے گرین لینڈ کے بارے میں مشترکہ بیان جاری کیا۔
مقامی وقت کے مطابق پانچ جنوری کو ، وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ وینزویلا کی معیشت پر عملاً کنٹرول حاصل کر کے، اسے ایک لیور کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ نئی قیادت کو ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
مقامی وقت کے مطابق 5 جنوری کو اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے عارضی نمائندے سن لےنے وینزویلا کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور غنڈہ گردی کے اقدامات حیران کن ہیں اور چین اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
4 جنوری کی سہ پہر کو جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر خصوصی طیارے کے ذریعے بیجنگ پہنچے۔
متعدد ممالک کی اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے۔ چین کے علاقے تائیوان کے حوالے سے جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات فوجی توسیع کو آگے بڑھانے کے ان کے ارادے کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافے کا شدید خدشہ ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ وینزویلا کے انتظام کے لیے افراد کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ کہ وینزویلا کے "صحیح راستے پر واپس آنے" تک وہ اس کے انتظام کے لیے ایک ٹیم تشکیل دیں گے۔
مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف کامیابی سے حملے کیے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لےکر وینزویلا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مزید تفصیلات بتدریج جاری کی جائیں گی اور مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کی
یکم جنوری کو اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں کام کرنے والی درجنوں بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ عالمی سطح پر اس اقدام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔متعدد ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے پابندیاں اٹھان
صدر شی جن پھنگ کے سال نو کے پیغام کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر شی کےسال نو کے پیغام میں چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا اور چین کے ، عوام پر مبنی ترقیاتی فلسفے کو بیان کیا گیا ۔ پیغام میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل م
مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کو وینزویلا کی حکومت نے کہا کہ صدر مادورو نے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دن کے اوائل میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں دھماکوں کی آوازیں اور اس کے بعد فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں سنائی دیں۔ وینزویلا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی
حال ہی میں، کئی ممالک کی جانب سے بیانات جاری ہوئے ہیں جن میں ایک چین کے اصول کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا گیا اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی گئی ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 31 دسمبر کو ، ترکیہ "سرکاری گزٹ "نے ایک صدارتی فرمان شائع کیا ہے جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ 2 جنوری 2026 سے ترکیہ میں عام چینی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری پالیسی نافذ کی جائے گی۔
مقامی وقت کے مطابق 29 دسمبر کو سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے چینی کمپنی کے زیر تعمیر "ڈینیوب کوریڈور" ہائی وے پروجیکٹ کے تعمیراتی مقام کے معائنے کے دوران تائیوان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے زور دیا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کی سرزمین کا حصہ ہے، اور سربیا مکمل سیاسی طاقت کے ساتھ ایک چین کے اصول کی
مقامی وقت کے مطابق 30 دسمبر کو یمن کی صورتحال میں اس وقت مزید شدت آگئی جب سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج نے یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضرموت میں مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے کا نشانہ مکلا بندرگاہ پر دو جہازوں سے اتارے گئے ہتھیار اور عسکری گاڑیاں تھیں۔
روسی وزارت خارجہ نے 30 دسمبر کو کہا کہ روس تائیوان کی علیحدگی کی ہر طرح کی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے، اور یہ کہ تائیوان کا معاملہ درحقیقت کچھ ممالک کے لیے چین کو روکنے کا ایک فوجی اسٹریٹجک آلہ بن چکا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 30 دسمبر کو فرانس، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک اور فن لینڈ سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں غزہ کے اندر انسانی صورتحال میں مزید خرابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مقامی وقت کے مطابق 25 دسمبر کو روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جاپان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر "جاپانی عسکریت پسندی کے متاثرین کے لیے ایک یادگاری ہال" تعمیر کرے تاکہ وہ اپنے کیے گئے جرائم پر غور کرے۔
مقامی وقت کے مطابق 24 دسمبر کی شام نائیجیریا کی ریاست بورنو کی پولیس نے تصدیق کی کہ میدوگوری شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے میدوگوری یونیورسٹی اسپتال لے جایا گیا ہے۔
متعدد بین الاقوامی شخصیات نے کہا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جو جاپان کے لیے ناقابل تصور نتائج لائے گی اور خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچائے گی۔ بیلاروس کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے نظریاتی سیکرٹری پیٹر پیٹررووسکی کا خیال ہے کہ
24 دسمبر کو ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ 23 تاریخ کو امریکی بحریہ کی حملہ آور جوہری آبدوز ، عملے کے آرام اور فوجی سامان کی سپلائی کے بہانے جنوبی کوریا کے بوسان آپریشنل بیس میں داخل ہوئی۔ اس سے قبل7 نومبر کو امریکی بحریہ کا یو ایس ایس جارج واشنگٹن جوہری طاقت سے